20 جولائی 2026 - 17:11
یمن میں غیر معمولی فوجی نقل و حرکت، مختلف محاذوں پر الرٹ

یمنی ذرائع نے انصار اللہ اور عدن میں قائم حکومت کی اتحادی افواج کے درمیان تمام محاذوں پر غیر معمولی فوجی نقل و حرکت کی اطلاع دیتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران دونوں فریقوں نے بڑی تعداد میں فوجی دستے اور جنگی ساز و سامان مختلف محاذوں پر منتقل کیے ہیں، جس سے وسیع پیمانے پر دوبارہ جنگ چھڑنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، یمنی ذرائع کا کہنا ہے کہ انصار اللہ اور یمنی فوج کے مقابل عدن میں قائم حکومت کی اتحادی افواج نے تمام رابطہ لائنوں پر اپنی عسکری سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔ دونوں جانب سے جنگی تیاریوں کو بلند ترین سطح پر پہنچا دیا گیا ہے، جس سے ملک میں ایک بار پھر بڑے پیمانے پر فوجی تصادم کے امکانات مضبوط ہو گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حالیہ کشیدگی اس وقت مزید بڑھی جب گزشتہ ہفتوں کے دوران ایران کی فضائی کمپنی ماہان کی تین پروازیں یمن کے ہوائی اڈوں پر اتریں۔ پہلی پرواز 12 تیر (3 جولائی) کو سعودی جنگی طیاروں کی مبینہ مداخلت کے باوجود انجام پائی، جسے صنعاء نے یمن پر 15 سال سے جاری محاصرے کے خاتمے کی علامت قرار دیا۔

یمن کے سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں کا جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ آئندہ مرحلے کے بارے میں عوام، سیاسی شخصیات اور حکام کے درمیان نمایاں ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ مختلف سیاسی، سماجی اور عسکری شخصیات نے سعودی عرب پر وعدہ خلافی، محاصرے کے تسلسل اور یمنی عوام پر برسوں سے جاری دباؤ کا الزام عائد کیا ہے۔

ان حالات میں سعودی عرب کے خلاف فوجی جواب دینے کا مطالبہ نمایاں ہو گیا ہے۔ متعدد حلقوں کا کہنا ہے کہ یمنی عوام مزید موجودہ صورتحال برداشت کرنے کے قابل نہیں رہے، اس لیے جنگ بندی کی بحالی، نئی تجاویز یا سابقہ امن عمل کی طرف واپسی کے امکانات نہایت محدود ہو چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ مؤقف صرف سوشل میڈیا تک محدود نہیں بلکہ انصار اللہ کی اعلیٰ قیادت، کارکنان اور عام شہری بھی برسوں کی جنگ، محاصرے اور دباؤ کے جواب میں سعودی عرب کو ایک اور شکست دینے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ بعض حلقے سعودی عرب کی اقتصادی تنصیبات اور تیل کے مراکز کو ممکنہ اہداف کے طور پر بھی پیش کر رہے ہیں۔

عدن حکومت سے وابستہ فوج کے دو عسکری ذرائع نے العربی الجدید کو بتایا کہ مأرب، البیضاء، الجوف اور ان سے ملحق صحرائی علاقوں کے محاذوں پر بڑے پیمانے پر کمک اور فوجی ساز و سامان بھیجا گیا ہے۔ ان کے مطابق تمام محاذوں پر جنگی تیاریوں کو انتہائی سطح تک بڑھا دیا گیا ہے اور فوجی کمانڈر شب و روز آپریشنل علاقوں میں موجود ہیں۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ انصار اللہ نے بھی الجوف کے ضلع الحزم، مأرب اور البیضاء کی سرحدی پٹی، صوبہ صنعاء، صعدہ اور الحدیدہ سمیت کئی علاقوں میں اپنی عسکری نقل و حرکت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔

ادھر مقامی ذرائع اور عینی شاہدین کے مطابق عدن حکومت کی فوج کے ماتحت "درع الوطن" نامی یونٹ کی بڑی تعداد صوبہ مأرب پہنچ چکی ہے۔ ریاض نواز فوج کے ایک کمانڈر معین البدوی نے دعویٰ کیا کہ ان کے دستے مکمل جنگی تیاری کی حالت میں ہیں اور تمام اہلکار ممکنہ تصادم کے آغاز کے منتظر ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا، "ہماری انگلیاں ٹریگر پر ہیں اور سب پہلی گولی چلنے کے منتظر ہیں۔"

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha